دمشق ،17؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )انسانی حقوق کی موقر بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ تقریباً 75ہزار پناہ گزین شام اور اردن کی سرحد کے درمیانی علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں سے سیکڑوں خوراک اور طبی امداد کی عدم فراہمی کی وجہ سے موت کا شکار ہو رہے ہیں۔جمعہ کو تنظیم کی طرف سے یہ انکشاف ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پناہ گزینوں کے بحران سے متعلق امریکہ میں دو اعلیٰ سطحی اجلاس ہونے جا رہے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سرحدی علاقے سے ایک وڈیو بھی حاصل کی جس میں پتھریلے اور چٹانوں والے علاقے میں خستہ حال قبریں اور وہاں موجود پناہ گزینوں کی مفلوک الحالی کو دیکھ کر بظاہر یوں لگتا ہے کہ دنیا انھیں فراموش کر چکی ہے۔گزشہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں اس ویرانے میں پھنسے لوگوں کی تعداد چند سو سے 75ہزار تک پہنچی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی عہدیدار سارا حشاش نے بتایا کہ جن لوگوں سے تنظیم نے بات کی انھوں نے یہاں شدید اضطرابی کیفیت کا تذکرہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ خوراک ختم ہو رہی ہے، بیماریاں پھیل رہی ہیں، کچھ لوگ قابل علاج امراض کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ اور جو سب سے زیادہ افسوسناک بات تھی وہ یہ کہ اگر انھیں طبی سہولت دستیاب ہو پاتی تو یہ زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔شام اور اردن کی سرحدوں کے اس درمیانی علاقے کو برم کہا جاتا ہے اور یہ گزشتہ جون کو اس وقت بند کر دیا گیا تھا جب داعش کے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ایک کار بم حملے میں اردن کے چھ فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔حشاش کا کہنا تھا کہ سرحد پر اضافی سکیورٹی قابل فہم ہے لیکن اردن کے حکام کو انسانی حقوق کے قوانین کا بھی پاس کرنا چاہیے۔انھوں نے مزید کہا کہ اردن کم ازکم اس علاقے میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں کو بحال کرے۔گزشتہ ماہ کے اوائل میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک نے کرینز کے ذریعے یہاں تقریباً ایک ماہ تک کا راشن اور طبی امداد فراہم کی تھی۔اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی اینجلینا جولی بھی رواں ہفتے کے اوائل میں اردن کے دورے کے موقع پر ان پناہ گزینوں کی صورتحال کو اجاگر کر چکی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاسوں میں مشترکہ طور پر بات کرے۔پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پناہ گزینوں کے معاملے پر بات ہو گی جب کہ منگل کو اس موضوع پر ایک کانفرنس کی میزبانی امریکی صدر براک اوباما کر رہے ہیں۔